صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۷ - فارس والوں کی فضیلت

فارس والوں کی فضیلت: دین ثریا پر بھی ہو تو حاصل کریں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۹۷

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ ، أَوَ قَالَ : مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دین ثریا پر ہوتا (ثریا پروین کو کہتے ہیں یعنی وہ چھوٹے چھوٹے تارے جو گچھے کی طرح معلوم ہو تے ہیں وہ زمین سے نہایت دور ہیں ان کے بعد کا اندازہ براہین ہندسہ سے بھی نہیں ہو سکتا) تو یہی فارس کا ایک آدمی اسے لے جاتا یا لے لیتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دین ثریا پر ہوتا تو فارس کا ایک آدمی اسے لے لیتا، یا فارس کے لوگوں میں سے کوئی اسے حاصل کر لیتا۔ روایت کے الفاظ میں دین کو بہت دور مقام، یعنی ثریا، سے تشبیہ دے کر بات سمجھائی گئی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ فارس کے بعض لوگوں کے بارے میں علم، دین، یا ایمان تک پہنچنے کی صلاحیت اور کوشش کی خبر دی گئی۔ اس حدیث کو فارس والوں کی فضیلت، ایمان ثریا پر، اور دین ثریا پر والی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ ہمیں اس روایت سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ جسے چاہے دین کی سمجھ اور طلب عطا فرماتا ہے، چاہے وہ کسی بھی قوم سے ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کی طلب کسی خاص قوم تک محدود نہیں۔
  • فارس کے لوگوں میں سے کسی کے دین تک پہنچنے کا ذکر آیا ہے۔
  • ثریا کی مثال دوری اور مشکل رسائی کو سمجھانے کے لیے آئی ہے۔
  • دینی فضیلت اللہ کے فضل اور طلب سے وابستہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں