صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۸ - ایمان ثریا پر ہو تو بھی پا لیں

ایمان ثریا پر بھی ہو تو سلمان فارسی کی قوم پا لے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۹۸

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا قَرَأَ : وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3 ، قَالَ رَجُلٌ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً ، أَوْ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، قَالَ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ " .

ابوہریرہ روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اتنے میں سورۂ جمعہ اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی«وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» «۶۲-الجعة: ٣» یعنی ”پاک ہے وہ اللہ جس نے پیغمبر بھیجا عرب کی طرف اور اوروں کی طرف جو ابھی عرب سے نہیں ملے۔“ایک شخص نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں جو عرب کے سوا ہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جو اب نہ دیا یہاں تک کہ اس نے ایک بار، دو بار، یا تین بار پوچھا: اس وقت ہم لوگوں میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو بھی ان کی قوم میں سے کچھ لوگ اس تک پہنچ جاتے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سورہ جمعہ نازل ہوئی، اور آیت پڑھی گئی جس میں بعد میں آنے والے لوگوں کا ذکر تھا۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً جواب نہیں دیا، پھر جب سوال دہرایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پا لیتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ایمان، فارس والوں کی فضیلت، اور دین کی طلب ہے۔ ایمان ثریا پر حدیث، سلمان فارسی کی قوم، اور سورہ جمعہ والی حدیث اسی روایت کے مشہور سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان اور دین کی طلب دور کے لوگوں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
  • سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قوم کے کچھ لوگوں کی فضیلت بیان ہوئی۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں ایک خاص اشارہ فرمایا۔
  • دین کسی نسل یا علاقے تک محدود نہیں رہتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں