صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۹ - لوگوں میں بہترین آدمی کم ہوتے ہیں
لوگ اونٹوں جیسے ہیں: نیک اور موزوں آدمی کم ملتے ہیں
صحیح مسلم : ۶۴۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۹۹
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، واللفظ لمحمد ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آدمیوں کو ایسا پاتے ہو جیسے اونٹ کہ سو اونٹوں میں سے ایک بھی چالاک عمدہ سواری کے قابل نہیں ملتا۔“ (اسی طرح عمدہ مہذب، عاقل نیک، نیک بخت، خوش اخلاق یا صالح پرہیزگار یا موحد دیندار سو آدمیوں میں ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کی مثال اونٹوں کے ایک ریوڑ سے دی۔ فرمایا کہ تم لوگوں کو سو اونٹوں کی طرح پاؤ گے، جن میں آدمی کو ایک بھی اچھی سواری کے قابل اونٹ نہیں ملتا۔ اس مثال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہر آدمی ظاہری طور پر موجود تو ہوتا ہے، مگر ہر شخص ہر کام کے لیے مناسب، مضبوط، قابل اعتماد، یا اعلیٰ اخلاق والا نہیں ہوتا۔ حدیث میں اصل بات لوگوں کی کمی یا اہلیت کی کمی کو مثال کے ذریعے سمجھانا ہے۔ نیک لوگوں کی کمی، اچھے انسان کی پہچان، اور سو اونٹ والی حدیث جیسے الفاظ اس روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس حدیث میں ہمیں لوگوں کو پرکھنے میں احتیاط اور حقیقت پسندی کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر شخص ہر ذمہ داری کے لیے یکساں مناسب نہیں ہوتا۔
- اچھے اور قابل اعتماد لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دے کر بات آسان بنائی۔
- انسانوں کے بارے میں حقیقت پسندانہ سمجھ رکھنی چاہیے۔
