صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۶ - اسلامی بھائی چارہ
اسلامی بھائی چارہ: حسد، بغض اور قطع تعلق سے بچیں
صحیح مسلم : ۶۵۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۲۶
حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بغض رکھو ایک دوسرے سے، مت حسد کرو ایک دوسرے سے، مت دشمنی کرو ایک دوسرے سے اور اللہ کے بندے بن جاؤ! بھائیوں کی طرح اور نہیں حلال ہے کسی مسلمان کو کہ چھوڑ دے اپنے بھائی کی ملاقات تین دن سے زیادہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اسلامی بھائی چارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ کرو، اور اللہ کے بندے بھائیوں کی طرح بن جاؤ۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کی ملاقات تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔ یہ بھائی چارہ کی حدیث ہمارے روزمرہ تعلقات کو درست کرتی ہے۔ حسد، بغض اور دشمنی دل کو سخت کرتے ہیں، جبکہ سلام، ملاقات اور نرمی تعلق کو بچاتے ہیں۔ اس روایت میں تین دن سے زیادہ قطع تعلق کی ممانعت بھی صاف بیان ہوئی ہے، اس لیے ناراضی کو لمبا کرنا درست رویہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حسد، بغض اور دشمنی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- مسلمانوں کو بھائیوں کی طرح رہنے کی نصیحت ہے۔
- مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ملاقات چھوڑنا درست نہیں۔
