صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۷ - بھائی چارہ
بھائی چارہ کی حدیث: دلوں میں حسد اور بغض نہ رکھیں
صحیح مسلم : ۶۵۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۲۷
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۷ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی مضمون آیا ہے جو پچھلی حدیث میں بیان ہوا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ کرو، اور اللہ کے بندے بھائیوں کی طرح بن جاؤ۔ روایت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ پیغام صرف ایک اخلاقی مشورہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے لیے واضح ہدایت ہے۔ بھائی چارہ کی حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے دل اور رویے دونوں کو صاف رکھے۔ جب حسد یا بغض بڑھتا ہے تو ملاقات، سلام اور قربت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ روایت ہمیں رشتوں کو ٹوٹنے سے پہلے ہی سنبھالنے کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بغض اور حسد تعلقات کو خراب کرتے ہیں۔
- مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ مطلوب ہے۔
- دشمنی سے بچ کر دلوں کو صاف رکھنا چاہیے۔
