صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۱ - بیماری پر صبر اور جنت

بیماری پر صبر کی حدیث: جنتی عورت کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۷۱

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَكَرٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : " أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ ، فَادْعُ اللَّهَ لِي ، قَالَ : إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ ، قَالَتْ : أَصْبِرُ ، قَالَتْ : فَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ ، فَدَعَا لَهَا " .

عطاء بن ابی رباح روایت:

مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تجھ کو ایک جنتی عورت دکھلاؤں؟ میں نے کہا: دکھلاؤ۔ انہوں نے کہا: یہ کالی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: مجھے مرگی کا عارضہ ہے، اس حالت میں میرا بدن کھل جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے میرے لیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو صبر کرتی ہے تو تیرے لیے جنت ہے اور جو تو کہے تو میں دعا کرتا ہوں اللہ تجھ کو تندرست کر دے گا۔“ وہ بولی: میں صبر کرتی ہوں، پھر بولی: میرا بدن کھل جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے میرا بدن نہ کھلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اس عورت کے لیے (چنانچہ اس کا بدن اس حالت میں ہرگز نہ کھلتا تھا معلوم ہوا کہ بیماری اور مصیبت میں صبر کرنے کا بدلہ بہشت ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۱ کا خلاصہ

یہ حدیث بیماری پر صبر اور حیا دونوں کا خوبصورت سبق دیتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عطاء سے کہا کہ کیا میں تمہیں جنتی عورت دکھاؤں؟ پھر بتایا کہ ایک عورت نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ مجھے مرگی کا عارضہ ہے اور اس حالت میں میرا بدن کھل جاتا ہے، میرے لیے دعا کیجئے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے اختیار دیا کہ اگر چاہو تو صبر کرو، تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں شفا کی دعا کر دوں۔ اس عورت نے صبر کو اختیار کیا، مگر ستر کھلنے سے بچنے کے لیے دعا کی درخواست کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس حدیث میں صبر، دعا، بیماری اور حیا کا واضح پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیماری میں صبر اختیار کرنا اللہ کے ہاں بڑی قدر رکھتا ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عورت کو صبر یا دعا کا اختیار دیا۔
  • عورت نے بیماری پر صبر کیا مگر ستر کی حفاظت کے لیے دعا مانگی۔
  • مصیبت میں دعا مانگنا اور حیا کا خیال رکھنا دونوں اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں