صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۲ - ظلم حرام اور اللہ سے مانگنا
حدیث قدسی: ظلم حرام ہے، ہدایت اور مغفرت اللہ سے مانگو
صحیح مسلم : ۶۵۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۷۲
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى ، عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا عِبَادِي : إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا ، فَلَا تَظَالَمُوا ، يَا عِبَادِي : كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ ، يَا عِبَادِي : كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ ، يَا عِبَادِي : كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ ، يَا عِبَادِي : إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ ، يَا عِبَادِي : إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي ، فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي ، فَتَنْفَعُونِي ، يَا عِبَادِي : لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا ، يَا عِبَادِي : لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا ، يَا عِبَادِي : لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي ، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ ، يَا عِبَادِي : إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " ، قَالَ سَعِيدٌ : كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے سنا، فرمایا پروردگار نے: ”اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا اور تم پر بھی حرام کیا، تو تم مت ظلم کرو آپس میں ایک دوسرے پر۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جس کو میں راہ بتلاؤں تو مجھ سے راہ مانگو میں تم راہ بتلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جس کو میں کھلاؤں تو مجھ سے کھانا مانگو میں تم کو کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جس کو میں پہناؤں، تو کپڑا مانگو مجھ سے میں پہناؤں گا تم کو۔اے بندو میرے! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں سب گناہوں کو بخشتا ہوں، تو بخشش چاہو مجھ سے میں بخشوں گا تم کو۔ اے میرے بندو! تم میرا نقصان نہیں کر سکتے اور نہ مجھ کو فائدہ پہنچا سکتے ہو، اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تمہارا بڑا پرہیزگار شخص تو میری سلطنت میں کچھ افزائش نہ ہو گی اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تمہارا بڑا بدکار شخص تو میری سلطنت میں سے کچھ کم نہ ہو گا۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوں، پھر مجھ سے مانگنا شروع کریں اور میں ہر ایک کو جو مانگے سو دوں تب بھی میرے پاس جو کچھ ہے وہ کم نہ ہو گا مگر اتنا جیسے دریا میں سوئی ڈبو کر نکال لو (تو دریا کا جتنا پانی کم ہو جاتا ہے اتنا بھی میرا خزانہ کم نہ ہو گا اس لیے کہ دریا کتنا ہی بڑا ہو آخر محدود ہے اور میرا خزانہ بے انتہا ہے پر یہ صرف مثال ہے) اے میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو تمہارے لیے شمار کرتا رہتا ہو ں، پھر تم کو ان اعمال کا پورا بدلہ دوں گا، سو جو شخص بہتر بدلہ پائے تو چاہیے کہ اللہ کا شکر کرے کہ اس کی کمائی بیکار نہ گئی اور جو برا بدلہ پائے تو اپنے ہی تئیں برا سمجھے۔“ (کہ اس نے جیسا کیا ویسا پایا)۔سعید نے کہا: کہ ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑتے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۲ کا خلاصہ
یہ عظیم حدیث قدسی بندے کو اپنی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی بے نیازی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا اور تم پر بھی حرام کیا، اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ پھر بندوں کو بتایا گیا کہ ہدایت، کھانا، لباس اور مغفرت سب اللہ سے مانگو۔ بندے رات دن خطا کرتے ہیں اور اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے، اس لیے استغفار کرنا چاہیے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ بندوں کی نیکی اللہ کی سلطنت نہیں بڑھاتی اور بدی اسے کم نہیں کرتی۔ آخر میں صاف بات کہی گئی کہ یہ تمہارے اعمال ہیں، اللہ انہیں شمار کرے گا اور پھر پورا بدلہ دے گا۔ جو خیر پائے وہ اللہ کا شکر کرے، جو برا پائے وہ اپنے آپ کو دیکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظلم اللہ تعالیٰ نے بندوں کے درمیان حرام قرار دیا ہے۔
- ہدایت، رزق، لباس اور مغفرت اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔
- بندے گناہ کرتے ہیں، مگر اللہ سے استغفار کریں تو وہ بخشنے والا ہے۔
- ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا، اس لیے ذمہ داری اپنی ہے۔
