صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۹ - اصل مفلس کون ہے؟
اصل مفلس کون ہے؟ حقوق العباد ضائع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۷۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ ؟ قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ ، وَصِيَامٍ ، وَزَكَاةٍ ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَقَذَفَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: مفلس ہم میں وہ ہے جس کے پاس روپیہ اور اسباب نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مفلس میری امت میں قیامت کے دن وہ ہو گا جو نماز لائے گا، روزہ اور زکوٰۃ لیکن اس نے دنیا میں ایک کو گالی دی ہو گی، دوسرے کو بدکاری کی تہمت لگائی ہو گی، تیسرے کا مال کھا لیا ہو گا، چوتھے کا خون کیا ہو گا، پانچویں کو مارا ہو گا، پھر ان لوگوں کو (یعنی جن کو اس نے دنیا میں ستایا) اس کی نیکیاں مل جائیں گی اور جو اس کی نیکیاں اس کے گناہ ادا ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی برائیاں اس پر ڈالی جائیں گی آخر وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مفلس کا حقیقی مطلب سمجھایا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں مفلس وہ ہے جس کے پاس مال اور سامان نہ ہو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون کیا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دی جائیں گی۔ اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر وہ آگ میں ڈالا جائے گا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ عبادت کے ساتھ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی لازم ہے۔ زبان، مال اور ہاتھ کے ظلم سے بچنا بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کا مفلس صرف بے مال شخص نہیں، بلکہ حقوق ضائع کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔
- نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ لوگوں کے حقوق کا خیال ضروری ہے۔
- گالی، تہمت، مال کھانا، خون بہانا اور مارنا سنگین معاملات ہیں۔
- مظلوموں کے حقوق ادا نہ کیے جائیں تو نیکیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔
