صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۰ - قیامت میں حقوق کی ادائیگی
قیامت میں حقوق کی ادائیگی: بے سینگ بکری والی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۰
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حقداروں کے حق ادا کرو گے قیامت کے دن یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔“ (گو جانوروں کو عذاب و ثواب نہیں پر قصاص ضرور ہو گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث قیامت کے عدل کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن حق داروں کے حق ضرور ادا کرو گے، یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا۔ اس مثال سے انسان کو سمجھایا گیا کہ اللہ کے ہاں حق ضائع نہیں ہوتا۔ اگر جانوروں کے درمیان ہونے والی زیادتی کا حساب بھی ہو گا تو انسانوں کے حقوق کا معاملہ کتنا سنجیدہ ہوگا۔ اس حدیث کا اصل موضوع حقوق العباد، عدل اور قیامت کا حساب ہے۔ ہمیں دنیا ہی میں لوگوں کے حقوق ادا کرنے، زیادتی سے بچنے، معافی مانگنے اور حق واپس کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ یہ حدیث ڈراتی بھی ہے اور انصاف پر یقین بھی دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن حق داروں کو ان کے حق دلوائے جائیں گے۔
- حدیث میں جانوروں کی مثال سے عدل کی سنجیدگی سمجھائی گئی ہے۔
- دنیا میں کسی کا حق روکنا معمولی بات نہیں سمجھنی چاہیے۔
- حقوق ادا کرنا اور زیادتی سے بچنا آخرت کے حساب سے پہلے ضروری ہے۔
