صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۱ - ظالم کو مہلت اور اللہ کی سخت پکڑ
ظالم کو مہلت ملتی ہے، چھوٹ نہیں
صحیح مسلم : ۶۵۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ ، فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ، ثُمَّ قَرَأَ ، وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ جل جلالہ مہلت دیتا ہے ظالم کو (اس کی باگ ڈھیلی کرتا ہے تاکہ خوب شرارت کر لے اور عذاب کا مستحق ہو جائے)، پھر جب پکڑتا ہے اس کو تو نہیں چھوڑتا.“بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ» (۱۱-ھود: ١٠٢) ”اسی طرح تیرا رب پکڑتا ہے جب پکڑتا ہے بستیوں کو یعنی ان بستیوں کو جو ظلم کرتی ہیں بے شک اس کی پکڑ دکھ والی ہے سخت۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع ظلم اور اللہ کی پکڑ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کسی ظالم کا فوراً نہ پکڑا جانا اس کے حق میں کامیابی نہیں۔ کبھی مہلت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ اپنے ظلم میں آگے بڑھتا رہے اور پھر جب پکڑ آئے تو بچ نہ سکے۔ اسی بات کی تائید کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ہود کی آیت پڑھی کہ جب رب ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سخت اور درد والی ہوتی ہے۔ اس لیے ظالم کی مہلت والی حدیث ہمیں دھوکے سے بچاتی ہے۔ ظلم کا انجام، اللہ کا عذاب، اور ظالم کی پکڑ جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل پیغام سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظالم کو ملنے والی مہلت اللہ کی طرف سے چھوٹ نہیں سمجھی جانی چاہیے۔
- جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو ظالم اس سے بچ نہیں سکتا۔
- قرآن کی آیت کے ساتھ حدیث کا پیغام ظلم کے انجام کو صاف کر دیتا ہے۔
