حدیث ۶۵۸۲
صحیح مسلم : ۶۵۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَنَادَى الْمُهَاجِرُ أَوْ الْمُهَاجِرُونَ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، وَنَادَى الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، قَالَ : " فَلَا بَأْسَ وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو لڑکے لڑے ایک مہاجرین میں سے تھا اور ایک انصار میں سے۔ مہاجر نے اپنے مہاجروں کو پکارا اور انصاری نے اپنے انصار کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرمایا: ”یہ تو جاہلیت کا سا پکارنا ہے۔“ (کہ ہر ایک اپنی قوم میں سے مدد لیتا ہے اور دو سری قوم سے لڑتا ہے اسلام میں سب مسلمان ایک ہیں) لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (کچھ بڑا مقدمہ نہیں) دو لڑکے لڑے ایک نے دوسرے کی سرین پر مارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کچھ ڈر نہیں (میں تو سمجھا تھا کوئی بڑا فساد ہے) چاہیے کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اگر ظالم ہے تو اس کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکے اور اگر مظلوم ہے تو اس کی مدد کرے۔“ (اور ظالم کے پنجہ سے چھڑائے)۔
