صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۳ - جاہلیت کی پکار چھوڑ دو
جاہلیت کی پکار کیوں چھوڑنی چاہیے؟
صحیح مسلم : ۶۵۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ، فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، قَالَ عُمَرُ : دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " .
سیدنا جابر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جہاد میں تو ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا (ہاتھ سے یا تلوار سے) انصاری نے آواز دی، اے انصار! دوڑو۔ اور مہاجر نے آواز دی، اے مہاجرین! دوڑو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو جاہلیت کا سا پکارنا ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو اس بات کو یہ گندی بات ہے۔“یہ خبر عبداللہ بن ابی کو پہنچی (جو منافق تھا) وہ بولا: مہاجرین نے ایسا کیا قسم اللہ کی اگر ہم مدینہ کو لوٹیں گے تو ہم میں کا عزت والا شخص ذلیل شخص کو وہاں سے نکال دے گا (معاذ اللہ اس منافق نے اپنے تئیں عزت والا قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلیل کہا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اس منافق کی گردن مارنے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا نے دے اے عمر! لوگ یہ نہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں۔“ (گو وہ مردود اسی قابل تھا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحت سے اس کو سزا نہ دی)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۳ کا خلاصہ
یہ حدیث جاہلیت کی پکار اور گروہی تعصب سے بچنے کا سبق دیتی ہے۔ غزوہ کے موقع پر ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا تو ایک طرف سے انصار کو پکارا گیا اور دوسری طرف سے مہاجرین کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً توجہ دلائی کہ یہ جاہلیت کی پکار ہے، پھر فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، یہ گندی بات ہے۔ یہاں اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایک شخص کی غلطی کو پورے گروہ کا مسئلہ بنا دیا جا رہا تھا۔ اس سے جھگڑا بڑھ سکتا تھا۔ پھر عبداللہ بن ابی کی بات سامنے آئی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کی اجازت نہ دی تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس حدیث میں عصبیت، فساد سے بچاؤ، اور حکمت والا رد عمل واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی فرد کے جھگڑے کو پورے گروہ کی لڑائی نہ بنایا جائے۔
- جاہلیت کی پکار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔
- فساد کے موقع پر حکمت اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
- ہر سخت بات کا جواب فوری سخت کارروائی سے دینا ضروری نہیں۔
