صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۸ - نرمی سے بھلائی ملتی ہے
جو نرمی سے محروم ہے، وہ بھلائی سے محروم ہے
صحیح مسلم : ۶۵۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۹۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ " .
جریر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نرمی سے محروم ہے وہ بھلائی سے محروم ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۸ کا خلاصہ
یہ حدیث رفق یعنی نرمی کے بارے میں بہت مختصر مگر یاد رہنے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نرمی سے محروم ہے، وہ بھلائی سے محروم ہے۔ اس کا مطلب یہ سمجھ آتا ہے کہ سختی، تلخی اور بدزبانی انسان کو بہت سی بھلائیوں سے دور کر دیتی ہے، جبکہ نرم مزاجی خیر کے دروازے کھولتی ہے۔ حدیث کے الفاظ میں نرمی، خیر، رفق، اور اچھے اخلاق جیسے موضوعات موجود ہیں۔ اس لیے لوگ رفق کی حدیث، نرمی کی فضیلت، نرم گفتگو کی حدیث اور خیر سے محرومی جیسے الفاظ سرچ کرتے ہیں۔ متن میں دعویٰ بہت صاف ہے، اس لیے ہمیں بھی بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے: نرمی کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایسی خوبی ہے جس سے بھلائی جڑتی ہے۔ گھر، گفتگو اور معاملے میں نرم انداز بہت فائدہ دے سکتا ہے، جب تک حق کو چھوڑا نہ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نرمی سے محرومی کو حدیث نے بھلائی سے محرومی بتایا ہے۔
- سخت لہجہ انسان کو اچھے اثرات سے دور کر سکتا ہے۔
- رفق اچھے اخلاق کا آسان اور عملی حصہ ہے۔
- نرمی کا مطلب حق چھوڑنا نہیں، بلکہ انداز کو بہتر رکھنا ہے۔
