صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۴ - اللہ نرمی کو پسند کرتا ہے

نرمی کی حدیث: سخت جواب کے بجائے سنبھلا ہوا جواب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۲۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ : وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُلْتُ : " وَعَلَيْكُمْ " .

عائشہ روایت:

کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السام عليكم‏.‏» (تمہیں موت آئے) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا کہ «وعليكم السام واللعنة‏.‏» (یعنی تمہیں موت آئے اور لعنت ہو) بیان کیا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ٹھہرو، اے عائشہ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی اور ملائمت کو پسند کرتا ہے۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» (اور تمہیں بھی)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نرمی اور زبان کے ضبط کا اہم سبق ہے۔ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سلام کے انداز میں بددعا کا لفظ کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا مفہوم سمجھا اور سخت جواب دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، اے عائشہ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نہیں سنا انہوں نے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جواب دے دیا تھا: وعلیکم۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نرمی کمزوری نہیں، بلکہ سنبھلا ہوا طرز عمل ہے۔ بدکلامی کے وقت بھی زبان کو قابو میں رکھنا اور حد سے نہ بڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
  • بدکلامی کے جواب میں بھی حد سے نہیں بڑھنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر اور سنبھلا ہوا جواب دیا۔
  • زبان کا ضبط نرمی کا اہم حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں