صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۵ - مسجد میں نرمی اور صفائی
مسجد میں پیشاب کرنے والے دیہاتی کا واقعہ: نرمی اور صفائی
صحیح بخاری : ۶۰۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۲۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تُزْرِمُوهُ " ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ " .
انس بن مالک روایت:
ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا۔ صحابہ کرام ان کی طرف دوڑے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے پیشاب کو مت روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ پیشاب کی جگہ پر بہا دیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نرمی، حکمت اور مسجد کی صفائی کا عملی نمونہ ملتا ہے۔ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے پیشاب کو مت روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور پیشاب کی جگہ پر بہا دیا گیا۔ حدیث کے الفاظ سے جو بات صاف سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد بازی یا سختی کے بجائے معاملے کو سنبھالا۔ پہلے نقصان کو بڑھنے سے روکا، پھر جگہ کو پاک کرنے کے لیے پانی بہانے کا حکم دیا۔ اس میں مسجد کی طہارت کا بھی سبق ہے اور غلطی کرنے والے کے ساتھ مناسب نرمی کا بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی کے وقت جلد بازی سے معاملہ بگڑ سکتا ہے۔
- مسجد کی صفائی اور طہارت کا خیال ضروری ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے بجائے حکمت سے کام لیا۔
- نجاست کی جگہ پر پانی بہا کر صفائی کی گئی۔
