صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۶ - مومن کی اخوت اور باہمی سہارا
مومن مومن کے لیے عمارت: اخوت کی آسان حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " ، ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس طرح ہے جیسے عمارت کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رہتا ہے (گرنے نہیں دیتا) پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کی طرح کر لیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اخوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو مومن کے لیے عمارت جیسا بتایا، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رکھتا ہے۔ یہ بات بہت سادہ مگر بڑی عملی ہے۔ مسلمان اکیلا نہیں رہتا؛ وہ دوسرے مسلمان کا سہارا بنتا ہے، اس کے لیے خیر چاہتا ہے اور مشکل وقت میں اسے گرنے نہیں دیتا۔ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں ملا کر اس مثال کو اور واضح کر دیا، یعنی اہل ایمان کا تعلق صرف زبانی نہیں بلکہ مضبوط جوڑ جیسا ہونا چاہیے۔ مومن مومن کے لیے عمارت والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں باہمی مدد، اتحاد اور دل کا تعلق اہم اخلاق ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کو دوسرے مومن کے لیے سہارا بننا چاہیے۔
- اہل ایمان کا تعلق مضبوط عمارت کے حصوں جیسا ہونا چاہیے۔
- عملی مدد اور باہمی تعاون ایمان والے معاشرے کی خوبصورتی ہے۔
