صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۷ - نیکی میں سفارش کا اجر

اچھی سفارش کی حدیث: ضرورت مند کی مدد کا اجر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۲۷

وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا ، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ " .

‏‏‏‏ اور ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب نے آ کر سوال کیا یا کوئی ضرورت پوری کرانی چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم خاموش کیوں بیٹھے رہتے ہو بلکہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی اجر ملے اور اللہ جو چاہے گا اپنے نبی کی زبان پر جاری کرے گا (تم اپنا ثواب کیوں کھوؤ)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع سفارش ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوال یا ضرورت لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ سفارش کرو تاکہ تمہیں اجر ملے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی ضرورت مند جائز مدد کے لیے آئے تو خاموش تماشائی بننا مناسب نہیں۔ اگر ہم کسی کے حق میں اچھی بات کہہ سکتے ہیں، اس کی بات آگے پہنچا سکتے ہیں، یا اس کی ضرورت میں نرم انداز سے مدد کر سکتے ہیں، تو یہ نیکی کا کام ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ آخری فیصلہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے؛ انسان اپنا حصہ ادا کرے، نتیجہ اللہ کے سپرد رہے۔ اچھی سفارش کی حدیث ہمیں مثبت مدد کا راستہ دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت مند کے حق میں اچھی سفارش کرنا اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
  • انسان کو نیکی کے کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
  • فیصلہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، بندہ صرف خیر کی کوشش کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں