صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۱ - علم، جہالت اور ہرج
علم جہالت اور ہرج: قیامت سے پہلے کی اہم نشانیاں
صحیح مسلم : ۶۷۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۹۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی مضمون بیان ہوا ہے جو اوپر گزرا: قیامت سے پہلے علم اٹھ جائے گا، جہالت اترے گی اور ہرج بہت ہو گا۔ اس طرح کی روایات “قیامت کی نشانیاں حدیث” کے اہم باب میں آتی ہیں، مگر ہمیں اس متن کو سادہ طور پر سمجھنا چاہیے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ صرف حالات پر گفتگو کی جائے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ علم کی کمی اور جہالت کا پھیلنا انسانوں کے عمل پر اثر ڈالتا ہے۔ ہرج یعنی قتل کا بڑھنا اسی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ مسلمان کے لیے اس حدیث کا عملی سبق یہ ہے کہ علم حاصل کرے، افواہوں اور جہالت سے بچے، اور جان کی حرمت کو بہت سنجیدہ سمجھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت علم کے اٹھنے اور جہالت کے پھیلنے کا ذکر کرتی ہے۔
- ہرج کا تعلق قتل و خون سے ہے۔
- قیامت کی نشانیوں کو سمجھ کر انسان کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
- فتنوں میں علم اور احتیاط کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے۔
