صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۲ - زمانہ قریب، علم کم اور ہرج زیادہ
زمانہ قریب ہونے کی حدیث: فتنوں، بخیلی اور ہرج کا بیان
صحیح مسلم : ۶۷۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۹۲
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيُلْقَى الشُّحُّ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : الْقَتْلُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ قریب ہو جائے گا زمانہ اور اٹھا لیا جائے گا علم (یعنی زمانہ قیامت کے قریب ہو جائے گا) اور عالم میں فساد پھیلیں گے اور دلوں میں بخیلی ڈالی جائے گی (لوگ زکوٰۃ اور خیرات نہ دیں گے) اور «هرج» بہت ہو گا، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! «هرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشت و خون۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ زمانہ قریب ہو جائے گا، علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، دلوں میں بخیلی ڈالی جائے گی اور ہرج بہت ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا: ہرج کیا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: قتل۔ “زمانہ قریب ہونے کی حدیث” اور “ہرج کا مطلب حدیث” دونوں کے لیے یہ روایت واضح الفاظ رکھتی ہے۔ اس میں علم کی کمی کے ساتھ فتنے، بخیلی اور قتل کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ اس سے مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ دینی علم، سخاوت، امن اور جان کی حرمت کو کمزور نہ ہونے دے۔ حدیث میں بخیلی کا ذکر بھی خاص ہے، اس لیے مال کے معاملے میں دل کی تنگی سے بچنا بھی اس روایت کے پیغام میں شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہرج کا مطلب اس روایت میں قتل بتایا گیا ہے۔
- فتنوں کا ظاہر ہونا قیامت کے قریب کی نشانیوں میں بیان ہوا ہے۔
- بخیلی دل میں ڈالی جانے کا ذکر بھی اس حدیث میں ہے۔
- علم، سخاوت اور امن کی حفاظت مسلمان کے لیے اہم ہے۔
