صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۳ - فتنے اور علم کا اٹھنا

فتنوں کی حدیث: علم کے اٹھنے اور ہرج کے بڑھنے کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۹۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۳ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں زمانہ قریب ہونے، علم کے اٹھ جانے، فتنوں کے ظاہر ہونے، بخیلی کے آنے اور ہرج کے بڑھنے کا ذکر ہے۔ “فتنوں کی حدیث” پڑھتے وقت اصل توجہ اس بات پر رہنی چاہیے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے امت کو ان خطرات سے پہلے ہی خبردار کیا۔ ہرج کی وضاحت قتل سے ہوئی، اس لیے جان کی حرمت کا مسئلہ اس روایت میں بہت نمایاں ہے۔ بخیلی کا ذکر بتاتا ہے کہ دل کی تنگی بھی فتنوں کے ماحول کا حصہ بن سکتی ہے۔ مسلمان کے لیے اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ علم سے تعلق، دل کی وسعت، اور فساد سے دوری اختیار کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتنے ظاہر ہونا اس روایت کے اہم نکات میں ہے۔
  • علم کا اٹھنا اور بخیلی کا آنا ساتھ بیان ہوا ہے۔
  • ہرج کا مطلب قتل ہے، جیسا کہ حدیث میں وضاحت آئی۔
  • دینی علم اور دل کی سخاوت فتنوں میں حفاظت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں