صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۴ - علم کی کمی اور فساد
علم کی کمی اور فتنے: ہرج کے بڑھنے والی حدیث
صحیح مسلم : ۶۷۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۹۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۴ کا خلاصہ
یہ روایت مذکورہ بالا حدیث کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں زمانہ قریب ہونے، علم کے کم یا اٹھ جانے، فتنوں کے ظاہر ہونے، بخیلی کے آنے اور ہرج کے بڑھنے کا بیان ہے۔ “علم کی کمی اور فتنے حدیث” کا اصل سبق یہ ہے کہ جب دینی سمجھ کمزور ہو تو انسان فتنوں میں آسانی سے الجھ سکتا ہے۔ ہرج کی وضاحت قتل سے ہوئی، اس لیے یہ روایت ہمیں خونریزی اور فساد کو معمولی سمجھنے سے روکتی ہے۔ بخیلی کا ذکر بھی بتاتا ہے کہ دل کی تنگی صرف مالی مسئلہ نہیں، بلکہ دینی اور اخلاقی کمزوری بھی بن سکتی ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر انسان کو علم، سخاوت اور امن کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کی کمی فتنوں کے دور میں بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
- بخیلی کا ذکر اس روایت میں واضح طور پر آیا ہے۔
- ہرج سے مراد قتل ہے، جسے معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
- مسلمان کو علم، سخاوت اور امن کے راستے کو مضبوط رکھنا چاہیے۔
