صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۸ - جنت کا خزانہ

لا حول ولا قوۃ الا باللہ: جنت کے خزانوں میں سے خزانہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۸

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ أَوَ قَالَ : عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا میں تجھ کو بتلاؤں ایک کلمہ جنت کے خزانوں میں سے یا ایک خزانہ جنت کے خزانوں میں سے۔“ میں نے عرض کیا: بتلایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ” «لا حول ولا قوة الا بالله۔» “

صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ بتایا جو جنت کے خزانوں میں سے ہے، اور وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔ اس روایت میں سفر یا آواز بلند کرنے کا ذکر نہیں، بلکہ اصل توجہ اسی کلمے کی فضیلت پر ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا مطلب بندے کو یہ یاد دلاتا ہے کہ گناہ سے بچنا، نیکی کرنا، مشکل سے نکلنا اور ہمت پانا سب اللہ کی مدد سے ہے۔ جنت کے خزانے کی حدیث عام مسلمان کے لیے بہت آسان عمل بتاتی ہے۔ زبان سے چھوٹا کلمہ ہے مگر معنی بہت گہرے اور دل کو اللہ کی طرف جھکانے والے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لا حول ولا قوۃ الا باللہ کو جنت کے خزانوں میں سے بتایا گیا ہے۔
  • یہ کلمہ بندے کو اپنی کمزوری اور اللہ کی قدرت یاد دلاتا ہے۔
  • حدیث میں اسی کلمے کی فضیلت خاص طور پر بیان ہوئی ہے۔
  • مسلمان اسے آسانی سے اپنی روزمرہ دعا اور ذکر میں شامل کر سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں