صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۴ - لا حول ولا قوۃ کا کلمہ

لا حول ولا قوۃ الا باللہ: جنت کے خزانے کا کلمہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۴

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا " ، قَالَ : فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْتُ : مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ،

ابوموسیٰ روایت:

وہ لوگوں کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور چڑھ رہے تھے ایک گھاٹی پر، ایک شخص جب کسی ٹیکرے پر چڑھتا تو آواز سے پکارتا: «لا اله الا الله والله اكبر»۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بہرے کو یا غائب کو نہیں پکارتے ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ یا اے عبداللہ بن قیس! میں تجھ کو ایک کلمہ بتلاؤں جو جنت کا خزانہ ہے۔“ میں نے عرض کیا: وہ کون سا کلمہ ہے یا رسول اللہ!؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لا حول ولا قوة الا بالله۔» “

صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے سفر کا واقعہ ہے۔ لوگ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے، اور ایک شخص ہر ٹیکرے پر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر بلند آواز سے کہتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ اس سے دعا اور ذکر کا سادہ ادب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سننے والا ہے، اس لیے بندہ سکون اور عاجزی کے ساتھ ذکر کرے۔ پھر آپ نے سیدنا ابو موسیٰ یا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو ایک کلمہ بتایا جو جنت کا خزانہ ہے: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ یہ حدیث لا حول کی فضیلت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ بندہ اس کلمے کے ذریعے مانتا ہے کہ قوت اور مدد اللہ کے اختیار میں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کو پکارنے کے لیے بے جا بلند آواز کی ضرورت نہیں، وہ سننے والا ہے۔
  • لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کا ذکر سفر میں بھی کیا گیا۔
  • لا حول ولا قوۃ الا باللہ کو جنت کے خزانے کا کلمہ فرمایا گیا۔
  • ذکر میں عاجزی اور سکون بندے کے لیے بہتر طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں