صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۵ - اسی مضمون کا ذکر
لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی روایت: ذکر کا آسان سبق
صحیح مسلم : ۶۸۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۵
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ،
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں متن مختصر ہے اور بتایا گیا ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کے قریب مضمون نقل ہوا ہے۔ اس لیے اس کا اصل موضوع ذکر اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت ہے۔ سابقہ مضمون کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں بلند آواز سے ذکر کرنے والوں کو نرمی کا حکم دیا، کیونکہ اللہ بہرا یا غائب نہیں۔ یہ بات بندے کے دل کو بہت قریب لگتی ہے کہ اللہ ہماری پکار سنتا ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا کلمہ بھی اسی سلسلے میں آیا، جسے جنت کے خزانوں میں سے خزانہ کہا گیا۔ یہ مختصر روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک ہی تعلیم کئی سندوں سے نقل ہو سکتی ہے، اور اصل سبق وہی رہتا ہے: ذکر میں سکون، ادب اور اللہ پر بھروسا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے مضمون کی تائید کے طور پر آئی ہے۔
- ذکر میں آواز سے زیادہ ادب اور دل کی توجہ اہم ہے۔
- لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت اسی مضمون میں بیان ہوئی ہے۔
- اللہ کو قریب سمجھ کر دعا اور ذکر کرنا بندے کے لیے باعث سکون ہے۔
