صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۶ - سفر میں ذکر

سفر میں ذکر کی حدیث: لا حول ولا قوۃ الا باللہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۶

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۶ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون نقل ہوا ہے جس میں سفر کا ذکر ہے۔ متن کے مطابق یہ حدیث عاصم کی حدیث کے قریب ہے، اس لیے اس کا پیغام وہی ہے کہ اللہ کو پکارنے میں نرمی اختیار کی جائے اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ جیسے کلمے کو یاد رکھا جائے۔ سفر میں انسان کبھی تھک جاتا ہے، آواز بلند ہو جاتی ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ دلائی کہ تم جس رب کو پکارتے ہو وہ سننے والا اور قریب ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی حدیث بندے کو یہ سکھاتی ہے کہ ہر طاقت اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ کلمہ زبان پر بھی آسان ہے اور دل کو اللہ کی مدد سے جوڑتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں بھی ذکر کیا جائے، مگر نرمی اور ادب کے ساتھ۔
  • اللہ سننے والا اور قریب ہے، اس لیے دعا میں سکون رکھا جائے۔
  • لا حول ولا قوۃ الا باللہ بندے کو اللہ کی مدد یاد دلاتا ہے۔
  • یہ روایت اسی معروف مضمون کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں