صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۷ - اللہ کا قرب
اللہ قریب ہے: دعا اور ذکر میں نرمی کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۸۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۷
وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ جس کو تم پکارتے ہو وہ تم سے زیادہ قریب ہے تمہارے اونٹ کی گردن سے۔ اور ان کی حدیث میں «لا حول ولا قوة الا بالله» کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کا قرب اور دعا کا ادب ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ روایت میں یہ بات آئی کہ جس کو تم پکارتے ہو وہ تم میں سے ہر ایک کے لیے اس کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس روایت میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ذکر نہیں، اس لیے اس کی بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہاں سبق یہ ہے کہ اللہ کو پکارنے کے لیے بندہ اپنے دل میں یقین رکھے کہ وہ سننے والا اور بہت قریب ہے۔ دعا کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ دور نہیں، اس لیے ذکر میں بے جا شور کے بجائے عاجزی اور توجہ بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ بندے کی پکار سنتا ہے اور بہت قریب ہے۔
- اس روایت میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ذکر نہیں، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جائے۔
- دعا اور ذکر میں بے جا بلند آواز کی ضرورت نہیں بتائی گئی۔
- سفر یا غزوہ کے موقع پر بھی ذکر کا ادب برقرار رہتا ہے۔
