صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۴ - بستر پر جانے کی مسنون دعا
بستر پر جانے کی مسنون دعا: اللہ کے سپرد ہو کر سونا
صحیح مسلم : ۶۸۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ مِنَ اللَّيْلِ ،
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو وہ «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِى إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِى إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ» پڑھے”اے الله! ميں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور میں نے اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کیا اور میں نے اپنی پشت تیری پناہ میں دی اور میں نے اپنا معاملہ رغبت اور خوف سے تیرے سپرد کیا۔ پناہ اور نجات کی جگہ تیرے سوا کوئی نہیں۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے۔ پس اگر وہ آدمی مر گیا تو فطرت پر مرا۔“اور ابن بشار نے اپنی حدیث میں رات کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سونے کے وقت دعا پڑھنے کا حکم دیا۔ دعا کے الفاظ میں بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی، اپنا چہرہ تیری طرف کیا، اپنی پشت تیری پناہ میں دی اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کیا۔ یہ سونے کی مسنون دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ رات کے وقت بھی اصل سہارا اللہ ہی ہے۔ دعا میں رغبت اور خوف دونوں کا ذکر ہے، یعنی بندہ اللہ کی رحمت کا امید وار بھی ہے اور اس کی گرفت سے ڈرتا بھی ہے۔ آخر میں کتاب اور رسول پر ایمان کا اقرار ہے۔ حدیث کے مطابق اگر اس حالت میں موت آئے تو فطرت پر موت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے سے پہلے اپنی جان اور معاملہ اللہ کے سپرد کرنا چاہیے۔
- دعا میں امید اور خوف دونوں کا ذکر ہے۔
- اللہ کے سوا کوئی پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔
- ایمان کا اقرار سونے کی دعا کا حصہ ہے۔
