صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۵ - سونے کی دعا اور خیر
سونے کی دعا: رات ایمان کے ساتھ گزارنے کا آسان عمل
صحیح مسلم : ۶۸۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَا فُلَانُ : إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ،
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! جب تو اپنے بچھونے پر جائے تو یہ دعا پڑھ جو اوپر گزری اس میں یہ ہے کہ اگر تو مر جائے گا تو مرے گا اسلام پر اور صبح کو اٹھے گا تو بہتری پر اٹھے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ جب اپنے بچھونے پر جاؤ تو وہ دعا پڑھو جو پچھلی روایت میں گزری۔ اس دعا میں اللہ کے سامنے جان، چہرہ، پشت اور معاملہ سپرد کرنے کے الفاظ ہیں۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ اگر اسی رات موت آ جائے تو فطرت پر موت ہو گی، اور اگر صبح ہو تو خیر پائے گا۔ اس لیے سونے کی دعا، وضو کے بعد دائیں کروٹ اور اللہ پر بھروسہ ایک مکمل رات کا ادب بن جاتا ہے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، بس بندے کو یہ سکھایا گیا کہ دن ختم کرتے وقت آخری بات اللہ کی یاد، ایمان اور پناہ ہو۔ یہ عمل آسان ہے مگر دل پر اچھا اثر چھوڑتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بستر پر جاتے وقت مسنون دعا پڑھنی چاہیے۔
- رات کا اختتام اللہ کی یاد پر کرنا بہتر ہے۔
- حدیث میں صبح خیر پانے کا ذکر آیا ہے۔
- دعا میں اللہ پر بھروسہ اور ایمان کا اقرار ہے۔
