صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۶ - سونے کی سپردگی والی دعا
سونے کی سپردگی والی دعا اور اللہ پر بھروسہ
صحیح مسلم : ۶۸۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۶
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۶ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی دعا کے مضمون کو بیان کرتی ہے جو بستر پر جاتے وقت پڑھی جاتی ہے۔ روایت میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اسی طرح دعا پڑھنے کا حکم دیا، البتہ اس سند میں صبح خیر پانے والے الفاظ کا ذکر نہیں۔ اس سے ہمیں حدیث بیان کرنے میں احتیاط کا سبق ملتا ہے کہ جہاں جو الفاظ آئے ہیں، وہی بیان کیے جائیں۔ سونے کی دعا میں انسان اپنی کمزوری مان کر اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے اللہ! میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کیا، تیری کتاب پر ایمان لایا اور تیرے نبی پر ایمان لایا۔ یہ دعا مسلمان کو رات کے وقت اللہ کی پناہ، توکل اور ایمان کی طرف لے جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ کو امانت سمجھ کر بیان کرنا چاہیے۔
- سونے سے پہلے اللہ کے سامنے سپردگی کا اظہار کرنا چاہیے۔
- ایمان اور توکل اس دعا کے مرکزی مضمون ہیں۔
- ہر روایت میں جو الفاظ آئیں، انہیں الگ پہچاننا چاہیے۔
