صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۶ - گناہ کے بعد معافی مانگنا

توبہ کی حدیث: بندہ گناہ کرے پھر رب سے معافی مانگے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۸۶

حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ ، فَأَذْنَبَ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ، ثُمَّ عَادَ ، فَأَذْنَبَ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : لَا أَدْرِي ، أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کیا کہ ”ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا کہ یا اللہ! میرا گناہ بخش دے۔ پروردگار نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے، پھر اس نے گناہ کیا اور کہا: اسے مالک میرے! میرا گناہ بخش دے۔پروردگار نے فرمایا: میرے بندے نے ایک گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے، پھر اس نے گناہ کیا: اور کہا: اے پالنے والے میرے! میرا گناہ بخش دے۔ پروردگا نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار جو گناہ بخشتا اور گناہ پر پکڑتا ہے۔ اے بندے! اب تو جو چاہے عمل کر میں نے تجھے بخش دیا۔“عبدالاعلیٰ نے کہا: جو راوی ہے اس حدیث کا مجھے یاد نہیں تیسری بار یا چوتھی بار یہ فرمایا: ”اب جو چاہے عمل کر۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۶ کا خلاصہ

یہ توبہ کی حدیث بہت امید دینے والی ہے، مگر ساتھ ہی گناہ کی پکڑ بھی یاد دلاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کیا کہ ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا: یا اللہ! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ پھر بندے سے دوبارہ گناہ ہوا، اس نے پھر معافی مانگی، اور یہی بات دوبارہ آئی۔ حدیث کا اصل نکتہ یہ ہے کہ بندہ گناہ کو اپنی ضد نہ بنائے، بلکہ ہر بار اللہ کی طرف پلٹے۔ یہاں اللہ کی مغفرت بھی ہے اور مواخذہ کا ذکر بھی، اس لیے اسے گناہ کی اجازت سمجھنا درست نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گناہ کے بعد فوراً اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
  • اللہ گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔
  • بار بار غلطی ہو جائے تو بھی بندے کو رب کی طرف پلٹنا چاہیے۔
  • یہ حدیث گناہ کو معمولی نہیں بناتی، بلکہ توبہ کی طرف بلاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں