صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۹ - توبہ کا دروازہ کھلا ہے
توبہ کا وقت: رات اور دن اللہ کی طرف پلٹنا
صحیح مسلم : ۶۹۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۸۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " ،
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزت اور بزرگی والا اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے رات کو تاکہ دن کا گنہگار توبہ کرے اور ہاتھ پھیلاتا ہے دن کو تاکہ رات کا گنہگار توبہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکلے پچھم سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث توبہ کا دروازہ کھلا ہونے کی بہت پیاری خبر دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہگار توبہ کرے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہگار توبہ کرے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔ حدیث کی بات بہت صاف ہے: گناہ ہو جائے تو بندہ وقت ضائع نہ کرے، نہ یہ سوچے کہ اب میرے لیے راستہ نہیں رہا۔ دن میں خطا ہوئی تو رات میں توبہ کرے، رات میں خطا ہوئی تو دن میں توبہ کرے۔ یہ حدیث امید دیتی ہے، مگر ساتھ وقت کی قدر بھی سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دن یا رات کسی بھی وقت بندہ اللہ سے توبہ کر سکتا ہے۔
- گناہ کے بعد دیر کرنے کے بجائے فوراً اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔
- حدیث میں توبہ کے لیے ایک آخری حد کا ذکر بھی آیا ہے۔
- اللہ بندے کے پلٹنے کو پسند فرماتا ہے۔
