صحیح مسلم حدیث ۶۹۹۰ - دن رات توبہ کی مہلت
دن رات توبہ کی حدیث: اللہ کی طرف واپسی کا راستہ
صحیح مسلم : ۶۹۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۹۰
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔ باب: اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
صحیح مسلم حدیث ۶۹۹۰ کا خلاصہ
یہ روایت اسی سند کے ساتھ پچھلی حدیث کے قریب قریب مضمون کو بیان کرتی ہے۔ اس کا مرکزی موضوع توبہ ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے گناہگار کے لیے دن میں، اور دن کے گناہگار کے لیے رات میں توبہ کا موقع رکھتا ہے۔ اس سے بندے کو یہ سبق ملتا ہے کہ گناہ کے بعد دل کو سخت نہ کرے، بلکہ واپس آ جائے۔ توبہ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی غلطی مانے اور معافی چاہے۔ اس روایت کے ساتھ باب میں اللہ تعالیٰ کی غیرت کا ذکر شروع ہوتا ہے، اس لیے قاری کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اللہ کی رحمت کے ساتھ اس کے حرام کیے ہوئے کاموں سے بچنا بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توبہ کے لیے دن اور رات دونوں وقت موقع ہیں۔
- گناہ کے بعد اللہ کی طرف واپس آنا چاہیے۔
- اللہ کی رحمت کا ذکر حرام کاموں سے بچنے کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- حدیث بندے کو امید دیتی ہے، بے پروائی نہیں سکھاتی۔
