صحیح مسلم حدیث ۶۹۹۲ - ظاہر و باطن فواحش سے بچیں
فواحش سے بچاؤ کی حدیث: چھپی اور کھلی برائیوں کی ممانعت
صحیح مسلم : ۶۹۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۹۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو زیادہ صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں۔ اسی لیے اللہ نے فواحش کو حرام کیا، چاہے وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دین صرف لوگوں کے سامنے اچھا بننے کا نام نہیں، بلکہ تنہائی میں بھی اللہ کے حکم کا خیال رکھنا ہے۔ جب حدیث کہتی ہے کہ ظاہر اور باطن دونوں فواحش حرام ہیں، تو بندے کو اپنے عمل، اپنی نیت، اپنی عادت اور اپنی چھپی ہوئی زندگی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ اس میں اللہ کی تعریف کا ذکر بھی ہے کہ اللہ سے زیادہ تعریف کو پسند کرنے والا کوئی نہیں۔ اس لیے بندے کی زبان پر اللہ کی حمد اور زندگی میں پاکیزگی دونوں ہونے چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ نے ظاہر اور چھپے دونوں فواحش حرام کیے ہیں۔
- تنہائی میں بھی اللہ کا حکم یاد رکھنا چاہیے۔
- اللہ کی غیرت بندے کو حرام کاموں سے بچنے کی دعوت دیتی ہے۔
- اللہ کی حمد کرنا بندے کے لیے پسندیدہ عمل ہے۔
