صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۱ - نماز سے گناہوں کی معافی
نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں: نماز کی حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : " فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 " ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت سے، ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تب یہ آیت اتری «(أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ) قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِىَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ «لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِى» یعنی ”قائم کر نماز کو دن کے دونوں طرف اور رات کی ساعت میں۔ بے شک نیکیاں دور کر دیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے قبول کرنے والوں کے لیے ہے۔“ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! یہ اسی شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جو کوئی عمل کرے میری امت میں سے۔“ (تو نیکیوں سے مراد اس آیت میں نماز ہے اور مجاہد نے کہا: وہ یہ کلمہ ہے «سبحان الله والحمدلله ولا اله الا الله والله اكبر»
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز اور نیکی کے ذریعے گناہوں کی معافی ہے۔ ایک شخص نے اپنی غلطی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیان کی، پھر قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ دن کے دونوں کناروں اور رات کے حصوں میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ اس حدیث میں بڑی نرمی اور امید کا پیغام ہے۔ آدمی نے پوچھا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں جو بھی اس پر عمل کرے، اس کے لیے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی پابندی، توبہ اور نیک اعمال انسان کی لغزشوں کے بعد اصلاح کا راستہ ہیں۔ یہ حدیث گناہوں کی معافی، نماز کی فضیلت اور نیکی کی طاقت کے موضوع پر بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی ہو جائے تو اسے چھپانے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- نماز نیکیوں میں سے ایک بڑا عمل ہے جو برائیوں کے اثر کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔
- یہ بشارت صرف ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ امت کے عمل کرنے والوں کے لیے عام ہے۔
- نیکی کے بعد انسان کو مایوسی نہیں بلکہ اصلاح کی طرف آنا چاہیے۔
