صحیح مسلم حدیث ۴۳۹ - رؤیت، تبلیغ اور علم غیب
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: رؤیت، وحی اور علم غیب کی درست سمجھ
صحیح مسلم : ۴۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۹
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَت : يَا أَبَا عَائِشَةَ ، ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ ، قُلْتُ : مَا هُنَّ ؟ قَالَتْ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ ، قَالَ : وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي ، أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23 ، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، فَقَالَتْ : أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ ، سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ ، لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا ، غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ ، سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ " ، فَقَالَتْ : أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 ؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ سورة الشورى آية 51 ؟ قَالَتْ : وَمَنْ زَعَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ ، وَاللَّهُ يَقُولُ : يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67 ، قَالَتْ : وَمَنْ زَعَمَ ، أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَة ، وَاللَّهُ يَقُولُ : قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65 ،
مسروق روایت:
میں تکیہ لگائے ہوئے تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس۔ انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ (یہ کنیت ہے مسروق کی) کہ تین باتیں ہیں جو کوئی ان کا قائل ہو اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر۔ میں نے کہا: وہ تین باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا: (ایک یہ ہے) جو کوئی سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر۔مسروق نے کہا: میں تکیہ لگائے تھا یہ سن کر میں بیٹھ گیا اور میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ذرا مجھے بات کرنے دیں اور جلدی مت کریں، کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ٭ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد ان آیتوں میں جبریل علیہ السلام ہیں۔ میں نے ان کو ان کی اصلی صورت پر نہیں دیکھا۔ سوائے دو بار کے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے میں نے دیکھا، ان کو وہ اتر رہے تھے آسمان سے اور ان کے تن و توش کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک روک دیا تھا۔“پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تو نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» کیا تو نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» تک (دوسری یہ ہے) کہ جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر۔اللہ فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ» یعنی ”اے پیغام پہنچانے والے! پہنچا دے جو اترا تجھ پر تیرے رب کے پاس سے اور جو ایسا نہ کرے تو تو نے پیغام نہیں پہنچایا“ (تیسری یہ ہے) جو کوئی کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل ہونے والی بات جانتے تھے (یعنی آئندہ کا حال) تو اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر ... اللہ خود فرماتا ہے: «قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» ”(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کی بات نہیں جانتا سوائے اللہ کے“۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۹ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت اہم ہے کیونکہ اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تین بڑے دعووں کی تردید کی۔ مسروق رحمہ اللہ ان کے پاس تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ جو کہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ مسروق نے آیات کا سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، جنہیں آپ نے اصل صورت میں دو بار دیکھا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو کہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپایا، اس نے بھی جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ نے تبلیغ کا حکم دیا۔ تیسری بات یہ کہ جو کہے آپ کل ہونے والی ہر بات جانتے تھے، اس نے بھی غلط کہا، کیونکہ غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ حدیث رؤیت باری، جبریل علیہ السلام، تبلیغ وحی اور علم غیب کے بارے میں صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق آیات میں جبریل علیہ السلام کا دیدار مراد ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام نہیں چھپایا۔
- کل کے غیب کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔
- دینی عقیدے میں قرآن اور حدیث کے الفاظ کو بنیاد بنانا چاہیے۔
