صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۲ - کفارہ اور نماز کی برکت
گناہ کا کفارہ اور نماز کی امید افزا حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ اس شخص نے اس عورت کا بوسہ لیا تھا یا ہاتھ سے مساس کیا تھا یا کچھ اور کیا تھا اور اس نے اس کا کفارہ پوچھا، تب یہ آیت اتری۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کی مزید وضاحت کرتی ہے کہ ایک شخص نے عورت کے ساتھ کوئی غلط حرکت کی، جیسے بوسہ یا ہاتھ لگانا، پھر اس نے اس کا کفارہ پوچھا۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کو ہلکا نہ سمجھے، بلکہ اس کا علاج تلاش کرے۔ اس موقع پر وہی آیت نازل ہوئی جس میں نماز قائم کرنے اور نیکیوں کے ذریعے برائیوں کے مٹنے کا ذکر ہے۔ یہاں کفارہ کی حدیث، توبہ کی حدیث اور نماز سے گناہوں کی معافی جیسے موضوعات صاف نظر آتے ہیں۔ حدیث ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ گناہ کو معمولی سمجھا جائے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ غلطی کے بعد اللہ کی طرف واپسی، نماز اور نیک عمل بندے کے لیے امید کا راستہ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی کے بعد شرعی رہنمائی لینا درست طرز عمل ہے۔
- نیکیوں کو معمولی نہ سمجھا جائے، وہ برائی کے اثر کو مٹانے کا سبب بنتی ہیں۔
- نماز انسان کو اللہ کی طرف واپس لانے والی عبادت ہے۔
- گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
