صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۳ - زنا سے کم گناہ اور توبہ
زنا سے کم گناہ، توبہ اور نیکیوں کی طاقت
صحیح مسلم : ۷۰۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۳
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ .
سلیمان تیمی سے روایت ہے وہی جو اوپر مذکور ہوئی اس میں یہ ہے کہ ایک شخص ایک عورت سے مرتکب ہوا سب باتوں کا سوائے زنا کے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کو یہ کام بڑا معلوم ہوا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کو بھی بڑا معلوم ہوا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر بیان کیا ویسا ہی جیسے اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ ایک شخص عورت کے ساتھ ایسی باتوں میں پڑ گیا جو زنا سے کم تھیں۔ وہ پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس، اور آخرکار رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے اپنا معاملہ بیان کیا۔ اس روایت کا موضوع توبہ، گناہ کا احساس اور نیک عمل ہے۔ حدیث میں یہ بات صاف ہے کہ چھوٹا یا بڑا گناہ انسان کے دل پر بوجھ بن سکتا ہے، اس لیے اسے اللہ کے حکم کی طرف لوٹنا چاہیے۔ نیکیوں سے برائیاں دور ہوتی ہیں، اس لیے نماز اور نیک اعمال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ حدیث زنا سے کم گناہ کی توبہ، نماز کی فضیلت اور اصلاح نفس کے لیے بہت اہم رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زنا سے کم گناہ بھی دل کو بے چین کر سکتا ہے، اس لیے اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔
- صحیح راستہ یہ ہے کہ آدمی توبہ اور رہنمائی کی طرف آئے۔
- نیکیوں کے ذریعے برائیوں کے اثرات دور ہوتے ہیں۔
- بڑے صحابہ گناہ کے معاملے کو سنجیدہ سمجھتے تھے۔
