صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۴ - اللہ کا پردہ اور نماز

اللہ کا پردہ، توبہ اور نماز سے اصلاح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا ، فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ ، قَالَ : فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا لَهُ خَاصَّةً ؟ ، قَالَ : بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً " ،

عبداللہ بن مسعود روایت:

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت سے مزہ اٹھایا مدینہ کے کنارے اور میں نے سب باتیں کیں سوائے جماع کے۔ اب میں حاضر ہوں جو چاہیے میرے باب میں حکم دیجئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تیرا گناہ ڈھانپا تو بھی اگر ڈھانپتا تو بہتر ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا، تب وہ شخص کھڑا ہوا اور چلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا اور بلایا اور یہ آیت پڑھی «(أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! کیا یہ حکم خاص اس کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں سب لوگوں کے لیے ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے مدینہ کے کنارے ایک عورت سے جماع کے علاوہ سب کچھ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے تیرا گناہ ڈھانپا تھا، اگر تو بھی اپنے آپ کو ڈھانپتا تو بہتر تھا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فوراً جواب نہ دیا، پھر اس شخص کو بلوا کر وہ آیت پڑھ کر سنائی جس میں نماز اور نیکیوں کے ذریعے برائیوں کے دور ہونے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا موضوع اللہ کا پردہ، توبہ اور نماز کی برکت ہے۔ اس میں یہ سبق بھی ہے کہ جب اللہ کسی کی غلطی کو ظاہر نہ کرے تو بندے کو اصلاح کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حکم صرف اس شخص کے لیے نہیں، بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کسی بندے کی غلطی چھپا دے تو اسے توبہ کی طرف آنا چاہیے۔
  • نماز اور نیک عمل برائیوں کے اثر کو دور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
  • اپنی غلطی کو بے وجہ پھیلانا درست رویہ نہیں۔
  • یہ حکم عام ہے، صرف ایک شخص تک محدود نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں