صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۵ - سب کے لیے توبہ کا راستہ
کیا نیکیوں سے گناہ مٹنے کا حکم سب کے لیے ہے؟
صحیح مسلم : ۷۰۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً ، قَالَ : بَلْ لَكُمْ عَامَّةً .
سیدنا عبداللہ نبی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ حکم خاص اسی کے لیے ہے یا ہمارے سب کے واسطے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں سب کے لیے ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۵ کا خلاصہ
اس روایت میں معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ یہ حکم صرف اس شخص کے لیے خاص ہے یا ہم سب کے لیے عام ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم سب کے لیے عام ہے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع توبہ، نماز اور نیک اعمال ہے۔ یہ بات بہت امید دینے والی ہے کہ اللہ کی طرف واپسی کا راستہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں۔ جب آدمی گناہ کے بعد سنبھلتا ہے، نماز کی طرف آتا ہے اور نیکی کرتا ہے تو وہ اپنی اصلاح کی طرف بڑھتا ہے۔ اس حدیث کو نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، نماز سے گناہوں کی معافی اور توبہ کی حدیث جیسے موضوعات میں سمجھنا چاہیے۔ حدیث میں حد سے بڑھ کر دعویٰ نہیں، بلکہ وہی بات ہے جو متن میں آئی کہ یہ حکم امت کے لیے عام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی حکم کی وضاحت پوچھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- نیکیوں سے برائیوں کا دور ہونا امت کے عمل کرنے والوں کے لیے عام ہے۔
- نماز اور توبہ انسان کو اصلاح کے راستے پر لاتے ہیں۔
- دین میں امید کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔
