صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۶ - نماز کے بعد بخشش
نماز کے بعد بخشش کی حدیث: اللہ کی رحمت کا پیغام
صحیح مسلم : ۷۰۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۶
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، قَالَ : وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا ، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، قَالَ : هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ غُفِرَ لَكَ " .
انس روایت:
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو مجھ پر حد قائم کیجئیے اور نماز کا وقت آ گیا تھا، پھر اس نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب نماز پڑھ چکا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے موافق مجھے حد لگائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نماز میں ہمارے ساتھ تھا“ وہ بولا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بخش دیا تجھ کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے حد والا کام کیا ہے، اس پر حد قائم کی جائے۔ اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، اس نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز کے بعد اس نے دوبارہ اپنا معاملہ بیان کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم ہمارے ساتھ نماز میں حاضر تھے؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تجھے بخش دیا۔ اس حدیث کا موضوع نماز، توبہ اور مغفرت ہے۔ یہاں اصل بات یہی ہے کہ نماز بندے کو اللہ کی رحمت کی طرف لاتی ہے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق بخشش کا ذکر اسی شخص کے لیے آیا جس نے نماز پڑھی اور پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا۔ اس سے نماز کی برکت اور اللہ کی رحمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز بندے کے لیے اللہ کی طرف پلٹنے کا بڑا ذریعہ ہے۔
- غلطی کے بعد انسان کو اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس شخص کے نماز میں شریک ہونے کو اہم قرار دیا۔
- حدیث میں اللہ کی بخشش کا ذکر امید پیدا کرتا ہے۔
