صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۷ - وضو، نماز اور بخشش
اچھا وضو، جماعت کی نماز اور گناہ کی معافی
صحیح مسلم : ۷۰۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۷
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا ، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ ، وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ ، فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا ؟ " ، فَقَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوَ قَالَ ذَنْبَكَ " .
ابوامامہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور ہم لوگ بھی بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ سے حد کا کام ہوا ہے تو حد لگائیے مجھ کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلم یہ سن کر چپ ہو رہے، اس نے پھر کہا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو حد لگائیے مجھ پر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے، اس نے تیسری بار بھی ایسا ہی کہا: اتنے میں نماز کھڑی ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، جب آپ فارغ ہوئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا یہ دیکھنے کو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں اس شخص کو، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو مجھ پر حد لگائیے۔ابوامامہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت تو اپنے گھر سے نکلا تھا تو نے اچھی طرح سے وضو نہیں کیا؟“ وہ بولا: کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟“ وہ بولا: ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ نے بخش دیا تیری حد کو یا تیرے گناہ کو۔“ باب: خون کرنے والے کی توبہ قبول ہو گی
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا اور بار بار کہنے لگا کہ مجھ سے حد کا کام ہوا ہے، مجھ پر حد قائم کیجیے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خاموش رہے۔ پھر نماز کھڑی ہوئی اور نماز کے بعد وہ شخص دوبارہ آپ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے آیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے پوچھا کہ جب تم گھر سے نکلے تو کیا اچھی طرح وضو نہیں کیا تھا؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔ پھر پوچھا کہ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس نے کہا ہاں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تیری حد یا تیرا گناہ بخش دیا۔ اس حدیث کا موضوع وضو، نماز اور مغفرت ہے۔ اس میں نماز اور اچھے وضو کی اہمیت بہت صاف انداز میں سامنے آتی ہے، مگر بات کو اسی واقعے کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھا وضو نماز کی تیاری کا اہم حصہ ہے۔
- جماعت کے ساتھ نماز بندے کے لیے خیر کا ذریعہ بنتی ہے۔
- غلطی کے بعد بندے کو اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خاموشی اور نرمی کے ساتھ معاملہ کیا۔
