صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۹ - علم، یادداشت اور توبہ

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ: علم، سچائی اور توبہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۱۹

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ أُصِيبَ بَصَرُهُ ، وَكَانَ أَعْلَمَ قَوْمِهِ وَأَوْعَاهُمْ لِأَحَادِيثِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ ، غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاسٍ كَثِيرٍ يَزِيدُونَ عَلَى عَشْرَةِ آلَافٍ وَلَا يَجْمَعُهُمْ دِيوَانُ حَافِظٍ .

عبداللہ بن کعب روایت:

عبیداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے اور سب سے زیادہ ان کو حدیثیں یاد تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تینوں شخصوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف کیا۔ وہ حدیثیں بیان کرتے تھے کہ وہ نہیں پیچھے رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی لڑائی میں سوا دو لڑائیوں کے، پھر بیان کیا وہی قصہ۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے آدمیوں کے ساتھ جہاد کیا جن کی تعداد دس (۱۰) ہزار سے زیادہ تھی اور کسی دفتر میں ان کا نام نہ تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۹ کا خلاصہ

اس روایت میں عبیداللہ بن کعب کے ذریعے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا ذکر آتا ہے کہ وہ اپنی قوم میں زیادہ علم رکھنے والے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی احادیث کو زیادہ یاد رکھنے والے تھے۔ پھر ان کا وہی قصہ بیان ہوا کہ وہ دو لڑائیوں کے سوا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پیچھے نہیں رہے۔ اس میں یہ بھی آیا کہ تبوک میں مسلمانوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی اور کوئی ایسا دفتر نہ تھا جس میں سب کے نام لکھے ہوں۔ اس حدیث کا موضوع علم، ذمہ داری، سچائی اور توبہ ہے۔ کعب رضی اللہ عنہ کا واقعہ یہ سمجھاتا ہے کہ صاحب علم شخص بھی غلطی کر سکتا ہے، مگر اصل خوبی یہ ہے کہ وہ سچ بولے، اپنی غلطی مانے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • علم رکھنے والا شخص بھی اپنی اصلاح کا محتاج رہتا ہے۔
  • غلطی کے بعد سچ بولنا ایمان داری کی نشانی ہے۔
  • دینی ذمہ داری میں تاخیر کبھی بڑی آزمائش بن سکتی ہے۔
  • توبہ میں اپنی کمی ماننا اہم قدم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں