صحیح مسلم حدیث ۷۰۴۶ - قیامت کے دن اللہ کی بادشاہی
اللہ کی عظمت: قیامت کے دن آسمان و زمین کا ذکر
صحیح مسلم : ۷۰۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۴۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ، فَيَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 " ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد یا اے ابولقاسم! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور نمناک زمین کو ایک انگلی پر اور تمام خلق کو ایک انگلی پر پھر ان کو ہلائے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ ہنسے تعجب سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی اس عالم کے کلام کیپھر یہ آیت پڑھی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ﴿۳۹-الزمر: ٦٧﴾ یعنی ”نہیں قدر کی انہوں نے اللہ کی جیسے قدر اس کی ہونی چاہیے اور ساری زمین اس کی ایک مٹھی میں ہے قیامت کے دن اور آسمان لپٹے ہوئے ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں، پاک ہے وہ اور بلند مشرکوں کے شرک سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قیامت کے دن اس کی کامل بادشاہی ہے۔ روایت میں ایک یہودی عالم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے کہا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں، درختوں، پانی، نمناک زمین اور تمام مخلوق کو اپنی قدرت کے تحت رکھے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ نبی صلى الله عليه وسلم یہ سن کر تعجب اور تصدیق کے طور پر ہنسے، پھر سورہ الزمر کی آیت پڑھی کہ لوگوں نے اللہ کی قدر ویسی نہیں کی جیسی کرنی چاہیے۔ اس حدیث میں اللہ کی قدرت، قیامت کا منظر، اور توحید کا پیغام بہت نمایاں ہے۔ ایسی احادیث میں الفاظ کو اسی طرح مانا جاتا ہے جیسے آئے ہیں؛ کیفیت کی تفصیل میں اپنی طرف سے بات نہیں بڑھائی جاتی۔ اصل سبق یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بڑی سے بڑی چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے کچھ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ کی عظمت انسان کے اندازے سے کہیں بلند ہے۔
- قیامت کے دن حقیقی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ظاہر ہو گی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آیت پڑھ کر بات کو قرآن سے جوڑا۔
- ایسی غیبی باتوں میں اپنی طرف سے کیفیت بیان نہیں کرنی چاہیے۔
