صحیح مسلم حدیث ۷۰۶۴ - عذاب سے بچاؤ اور استغفار کا سبق

استغفار کی برکت: عذاب مانگنے کے بجائے ہدایت مانگو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۶۴

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ { 33 } وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 33-34 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .

انس بن مالک روایت:

ابوجہل نے کہا: یااللہ! اگر یہ قرآن سچ ہے تیری طرف سے تو ہم پر پتھر برسا آسمان سے یا دکھ کا عذاب بھیج۔اس وقت یہ آیت اتری: «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ * وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» (۸-الأنفال: ٣٣-۳۴) ”اللہ ان کو عذاب کرنے والا نہیں، جب تک تو ان میں موجود ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں کرنے کا جب تک وہ استغفار کرتے ہیں، اور کیا ہوا جو اللہ عذاب نہ کرے ان کو وہ روکتے ہیں مسجد حرم میں آنے سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۰۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوجہل کا قول نقل ہوا کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا دردناک عذاب لے آ۔ جواب میں وہ آیات نازل ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہیں، اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جب تک وہ استغفار کرتے ہیں۔ پھر مسجد حرام سے روکنے کا بھی ذکر آیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ ضد انسان کو بہت غلط دعا تک لے جاتی ہے۔ استغفار کی حدیث، عذاب سے بچنے کی دعا، اور قرآن حق ہے تو ہدایت دے جیسے موضوعات یہاں سے سمجھ آتے ہیں۔ بندے کو حق سامنے آئے تو عذاب نہیں، ہدایت مانگنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حق کے مقابلے میں ضد انسان کو غلط بات کہلوا سکتی ہے۔
  • استغفار عذاب کے معاملے میں بہت اہم سبب کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اس آیت میں عذاب کے مؤخر ہونے کا سبب بیان ہوئی۔
  • مسجد حرام سے روکنا سخت قابل گرفت عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں