صحیح مسلم حدیث ۷۰۶۳ - مزدور کا حق اور ایمان کی مضبوطی

مزدوری کا حق اور ایمان: خباب رضی اللہ عنہ کا مضبوط جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۶۳

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ .

اعمش روایت:

اعمش نے اسی سند کے ساتھ وکیع کی روایت کی طرح بیان کیا۔ اس میں یہ ہے کہ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جاہلیت کے زمانہ میں لوہار تھا۔ میں نے عاص بن وائل کا کچھ کام کیا پھر اس سے تقاضا کرنے گیا مزدوری کے لیے۔

صحیح مسلم حدیث ۷۰۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلے واقعے کی ایک اور بات کھلتی ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ جاہلیت کے زمانے میں لوہار تھے۔ انہوں نے عاص بن وائل کا کام کیا تھا، پھر اپنی مزدوری یا حق لینے اس کے پاس گئے۔ اصل بات یہی ہے کہ محنت کا حق مانگنا کوئی عیب نہیں، لیکن جب عاص بن وائل نے حق دینے کے لیے ایمان چھوڑنے کی شرط لگائی تو حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے اسے قبول نہ کیا۔ مزدوری کی حدیث، خباب رضی اللہ عنہ کا واقعہ، اور ایمان پر ثابت قدمی جیسے سرچ الفاظ اسی سبق سے جڑتے ہیں۔ یہ حدیث محنت کی عزت بھی دکھاتی ہے اور یہ بھی کہ مومن اپنا دین کسی مالی دباؤ کے بدلے نہیں چھوڑتا۔ متن میں جو بات آئی ہے، وہ بہت صاف ہے: حق مانگا گیا، غلط شرط رکھی گئی، اور ایمان کو مقدم رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • محنت کی کمائی کا حق مانگنا درست ہے۔
  • مالی دباؤ کے باوجود ایمان پر قائم رہنا چاہیے۔
  • کسی کا حق روک کر غلط شرط لگانا برا عمل ہے۔
  • دنیاوی فائدہ دین کے مقابلے میں معمولی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں