صحیح مسلم حدیث ۷۳۵۶ - دجال کی علامات اور آخرت کی یاددہانی

دجال کی حقیقت اور ایمان والوں کے لیے اہم تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۵۶

قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ ، وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ " ، وَقَالَ : " تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، حَتَّى يَمُوتَ " ،

سیدنا عبداللہ بن عمر روایت:

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جیسی اس کو لائق ہے، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تم کو اس سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو یہاں تک کہ نوح علیہ السلام نے بھی (جن کا زمانہ بہت پہلے تھا) اپنی قوم کو ڈرایا اس سے۔ لیکن میں تم کو ایسی بات بتلائے دیتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتلائیں۔ تم جان لو کہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا اللہ برکت والا کانا نہیں ہے۔“ (معاذ اللہ کانا پن ایک عیب ہے اور وہ ہر ایک عیب سے پاک ہے)۔ابن شہاب نے کہا: مجھ سے عمر بن ثابت انصاری نے بیان کیا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دجال سے ڈرایا اور یہ بھی فرمایا: ”کہ اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ کافر لکھا ہو گا (یعنی حقیقتاً ک، ف اور رے۔ یہ حروف لکھے ہوں گے یا اس کے چہرے سے کفر اور شرارت نمایاں ہو گی) جس کو پڑھ لے گا وہ شخص جو اس کے کاموں کو برا جانے گا یا اس کو ہر ایک مؤمن پڑھ لے گا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ جان رکھو کہ کوئی تم میں سے اپنے رب کو نہیں دیکھے گا جب تک مر نہ لے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۳۵۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور پھر دجال کے فتنے سے سخت انداز میں ڈرایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا، یہاں تک کہ سیدنا نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس فتنے سے آگاہ کیا تھا۔ یہ بات اس فتنے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دجال کی ایک خاص علامت بھی بتائی کہ وہ کانا ہوگا، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ یہ بات ایمان والوں کے لیے ایک واضح پہچان ہے تاکہ وہ دجال کے جھوٹ کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ فرمایا گیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان "کافر" لکھا ہوگا جسے ہر سچا مؤمن پڑھ لے گا، چاہے وہ پڑھنا جانتا ہو یا نہ ہو۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ کوئی شخص اپنے رب کو اس وقت تک نہیں دیکھ سکتا جب تک وہ وفات نہ پا جائے، یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن نہیں۔ اس حدیث کا اصل مقصد امت کو فتنوں سے بچانا اور آخرت کی یاد دلانا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دجال کا فتنہ بہت بڑا اور خطرناک ہے جس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو خبردار کیا
  • اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے اور اس کی ذات کسی بھی کمی سے مبرا ہے
  • دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار موت کے بعد ہی ممکن ہے
  • مؤمن کو فتنوں کی پہچان اور ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں