حدیث ۷۳۵۵
صحیح مسلم : ۷۳۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۵۵
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ : يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ ، فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ " ،
سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس باغ میں گئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو کھجور کے درختوں کی آڑ میں چھپنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب تھا کہ ابن صیاد کو دھوکا دیں اور اس کی کچھ باتیں سنیں۔ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو دیکھا وہ لیٹا ہوا تھا ایک بچھونے پر ایک کمبل اوڑھے ہوئے کچھ گنگنا رہا تھا۔ اس کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ رہے تھے کھجور کے درختوں کی آڑ میں، اس نے ابن صیاد کو پکارا: اے صاف! اے صاف! (یہ صاف نام تھا ابن صیاد کا) یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے۔ یہ سنتے ہی ابن صیاد اٹھ کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تو اس کو ایسا ہی رہنے دیتی۔“ (تو ہم اس کی باتیں سنتے تو معلوم کرتے کہ وہ کاہن ہے یا ساحر)۔
