حدیث ۷۳۵۴

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۵۴

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ " ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاذَا تَرَى ؟ " ، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ " ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : هُوَ الدُّخُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ " ،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے پھر اس کو دیکھا لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بنی مغالہ کے پاس۔ ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے اس بات کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“، ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم رسول ہو امی لوگوں کے (امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو) پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا یا اس سے درخواست نہ کی مسلمان ہونے کی (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو گئے اس کے اسلام سے اور ایک روایت میں «فَرَفَصَه ٗ» صاد مہملہ سے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا) اور فرمایا: ”میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟“ وہ بولا: میرے پاس کبھی سچا آتا ہے کبھی جھوٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کام گڑبڑ ہو گیا۔“ (یعنی مخلوط حق وباطل دونوں سے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے پوچھنے کے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے۔“ ابن صیاد نے کہا: وہ «دخ» ہے ( «دخ» بمعنی «دخان» یعنی دھواں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل ہو، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے چھوڑئیے یا رسول اللہ! میں سے اس کی گردن مارتا ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ وہی ہے (یعنی دجال) تو تو اس کو مارنہ سکے گا اور جو وہ نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں