صحیح مسلم حدیث ۸۰ - معروف اور مجہول راوی
معروف اور مجہول راوی: حدیث کس سے لکھی جائے؟
صحیح مسلم : ۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ : اكْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ ، مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ ، وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ ،
ابو اسحاق فزاری روایت:
لکھ لے تو بقیہ (بن ولید) کی وہ حدیث جو روایت کرے وہ مشہور لوگوں سے اور مت لکھ اس حدیث کو جو روایت کرے مجہول لوگوں سے اور مت لکھ تو اسماعیل بن عیاش کی حدیث ہرگز اگرچہ وہ روایت کرے مشہور لوگوں سے بھی۔
صحیح مسلم حدیث ۸۰ کا خلاصہ
اس روایت میں زکریا بن عدی کہتے ہیں کہ ابو اسحاق فزاری نے انہیں نصیحت کی کہ بقیہ بن ولید کی وہ حدیث لکھو جو وہ معروف لوگوں سے روایت کرے، مگر جو وہ غیر معروف لوگوں سے روایت کرے اسے نہ لکھو۔ پھر اسماعیل بن عیاش کے بارے میں زیادہ سخت بات کہی کہ اس کی حدیث نہ لکھو، چاہے وہ معروف لوگوں سے روایت کرے یا غیر معروف سے۔ اس روایت کا اصل موضوع معروف راوی، مجہول راوی، حدیث لکھنے کی شرط اور روایت میں احتیاط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم ہر راوی کے بارے میں الگ حکم لگاتے تھے۔ کسی ایک شخص کے لیے شرط الگ ہو سکتی ہے اور دوسرے کے لیے منع زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ حدیث کی سند میں یہی باریک احتیاط بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث لکھتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ راوی کس سے روایت کر رہا ہے۔
- معروف اور غیر معروف راویوں میں فرق کیا جاتا ہے۔
- ہر راوی کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا۔
- اہل علم حدیث لینے کے لیے خاص اصول اور احتیاط رکھتے تھے۔
