صحیح مسلم حدیث ۸۴۹ - اذان کے بعد درود اور وسیلہ
اذان کے بعد درود اور وسیلہ مانگنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۴۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ وغيرهما ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : " أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ ، حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " .
عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب مؤذن کی اذان سنو تو تم وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جو کوئی میرے لیے وسیلہ (مقام محمود) طلب کرے گا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔ “
صحیح مسلم حدیث ۸۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب مؤذن کی اذان سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود پڑھو۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ جو شخص ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں فرماتا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے وسیلہ مانگنے کا حکم دیا گیا، کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے امید ظاہر فرمائی کہ وہ مقام آپ صلى الله عليه وسلم کو ملے گا۔ اس روایت میں اذان کا جواب، درود شریف اور وسیلہ کی دعا ایک ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے اذان سننے والے کے لیے یہ حدیث بہت عملی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان سن کر مؤذن کے الفاظ دہرائے جائیں۔
- اذان کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر درود پڑھنے کا حکم آیا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے وسیلہ مانگنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
